بدھ، 29 نومبر، 2017

میلاد کی شرعی حیثیت


الحمد للہ:
اول: 
سب سے پہلى بات تو يہ ہے كہ علماء كرام كا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى تاريخ پيدائش ميں اختلاف پايا جاتا ہے اس ميں كئى ايك اقوال ہيں جہيں ہم ذيل ميں پيش كرتے ہيں: 
چنانچہ ابن عبد البر رحمہ اللہ كى رائے ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى پيدائش سوموار كے دن دو ربيع الاول كو پيدا ہوئے تھے. 
اور ابن حزم رحمہ اللہ نے آٹھ ربيع الاول كو راجح قرار ديا ہے. 
اور ايك قول ہے كہ: دس ربيع الاول كو پيدا ہوئے، جيسا كہ ابو جعفر الباقر كا قول ہے. 
اور ايك قول ہے كہ: نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى پيدائش بارہ ربيع الاول كو ہوئى، جيسا كہ ابن اسحاق كا قول ہے.
اور ايك قول ہے كہ: نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى پيدائش رمضان المبارك ميں ہوئى، جيسا كہ ابن عبد البر نے زبير بكّار سے نقل كيا ہے. 
ديكھيں: السيرۃ النبويۃ ابن كثير ( 199 - 200 ). 
ہمارے علم كے ليے علماء كا يہى اختلاف ہى كافى ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے محبت كرنے والے اس امت كے سلف علماء كرام تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى پيدائش كے دن كا قطعى فيصلہ نہ كر سكے، چہ جائيكہ وہ جشن ميلاد النبى صلى اللہ عليہ وسلم مناتے، اور پھر كئى صدياں بيت گئى ليكن مسلمان يہ جشن نہيں مناتے تھے، حتى كہ فاطميوں نے اس جشن كى ايجاد كى.
شيخ على محفوظ رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" سب سے پہلے يہ جشن فاطمى خلفاء نے چوتھى صدى ہجرى ميں قاہر ميں منايا، اور انہوں نے ميلاد كى بدعت ايجاد كى جس ميں ميلاد النبى صلى اللہ عليہ وسلم، اور على رضى اللہ تعالى عنہ كى ميلاد، اور فاطمۃ الزہراء رضى اللہ تعالى عنہا كى ميلاد، اور حسن و حسين رضى اللہ تعالى عنہما، اور خليفہ حاضر كى ميلاد، منانے كى بدعت ايجاد كى، اور يہ ميلاديں اسى طرح منائى جاتى رہيں حتى كہ امير لشكر افضل نے انہيں باطل كيا. 
اور پھر بعد ميں خليفہ آمر باحكام اللہ كے دور پانچ سو چوبيس ہجرى ميں دوبارہ شروع كيا گيا حالانكہ لوگ تقريبا اسے بھول ہى چكے تھے. 
اور سب سے پہلا شخص جس نے اربل شہر ميں ميلاد النبى صلى اللہ عليہ وسلم كى ايجاد كى وہ ابو سعيد ملك مظفر تھا جس نے ساتويں صدى ہجرى ميں اربل كے اندر منائى، اور پھر يہ بدعت آج تك چل رہى ہے، بلكہ لوگوں نے تو اس ميں اور بھى وسعت دے دى ہے، اور ہر وہ چيز اس ميں ايجاد كر لى ہے جو ان كى خواہش تھى، اور جن و انس كے شياطين نے انہيں جس طرف لگايا اور جو كہا انہوں وہى اس ميلاد ميں ايجاد كر ليا " انتہى 
ديكھيں: الابداع مضار الابتداع ( 251 ). 
دوم: 
سوال ميں ميلاد النبى كے قائلين كا يہ قول بيان ہوا ہے كہ: 
جو تمہيں كہے كہ ہم جو بھى كرتے ہيں اس كا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم يا عہد صحابہ يا تابعين ميں پايا جانا ضرورى ہے " 
اس شخص كى يہ بات اس پر دلالت كرتى ہے كہ ايسى بات كرنے والے شخص كو تو بدعت كے معنى كا ہى علم نہيں جس بدعت سے ہميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بچنے كا بہت سارى احاديث ميں حكم دے ركھا ہے؛ اس قائل نے جو قاعدہ اور ضابطہ ذكر كيا ہے وہ تو ان اشياء كے ليے ہے جو اللہ كا قرب حاصل كرنے كے ليے كى جاتى ہيں يعنى اطاعت و عبادت ميں يہى ضابطہ ہو گا. 
اس ليے كسى بھى ايسى عبادت كے ساتھ اللہ كا قرب حاصل كرنا جائز نہيں جو ہمارے ليے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے مشروع نہيں كى، اور يہ چيز نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے جو ہميں بدعات سے منع كيا ہے اسى سے مستنبط اور مستمد ہے، اور بدعت اسے كہتے ہيں كہ: كسى ايسى چيز كے ساتھ اللہ كا قرب حاصل كرنے كى كوشش كى جائے جو اس نے ہمارے ليے مشروع نہيں كى، اسى ليے حذيفہ رضى اللہ تعالى عنہ كہا كرتے تھے: 
" ہر وہ عبادت جو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے صحابہ كرنے نے نہيں كى تم بھى اسے مت كرو " 
يعنى: جو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے دور ميں دين نہيں تھا، اور نہ ہى اس كے ساتھ اللہ كا قرب حاصل كيا جاتا تھا تو اس كے بعد بھى وہ دين نہيں بن سكتا " 
پھر سائل نے جو مثال بيان كى ہے وہ جرح و تعديل كے علم كى ہے، اس نے كہا ہے كہ يہ بدعت غير مذموم ہے، جو لوگ بدعت كى اقسام كرتے ہوئے بدعت حسنہ اور بدعت سئيہ كہتے ہيں ان كا يہى قول ہے كہ يہ بدعت حسنہ ہے، بلكہ تقسيم كرنے والے تو اس سے بھى زيادہ آگے بڑھ كر اسے پانچ قسموں ميں تقسيم كرتے ہوئے احكام تكليفيہ كى پانچ قسميں كرتے ہيں: 
وجوب، مستحب، مباح، حرام اور مكروہ عزبن عبد السلام رحمہ اللہ يہ تقسيم ذكر كيا ہے اور ان كے شاگرد القرافى نے بھى ان كى متابعت كى ہے. 
اور شاطبى رحمہ اللہ قرافى كا اس تقسيم پر راضى ہونے كا رد كرتے ہوئے كہتے ہيں: 
" يہ تقسيم اپنى جانب سے اختراع اور ايجاد ہے جس كى كوئى شرعى دليل نہيں، بلكہ يہ اس كا نفس متدافع ہے؛ كيونكہ بدعت كى حقيقت يہى ہے كہ اس كى كوئى شرعى دليل نہ ہو نہ تو نصوص ميں اور نہ ہى قواعد ميں، كيونكہ اگر كوئى ايسى شرعى دليل ہوتى جو وجوب يا مندوب يا مباح وغيرہ پر دلالت كرتى تو پھرى كوئى بدعت ہوتى ہى نہ، اور عمل سارے ان عمومى اعمال ميں شامل ہوتے جن كا حكم ديا گيا ہے يا پھر جن كا اختيار ديا گيا ہے، چنانچہ ان اشياء كو بدعت شمار كرنے اور يہ كہ ان اشياء كے وجوب يا مندوب يا مباح ہونے پر دلائل دلالت كرنے كو جمع كرنا دو منافى اشياء ميں جمع كرنا ہے اور يہ نہيں ہو سكتا. 
رہا مكروہ اور حرام كا مسئلہ تو ان كا ايك وجہ سے بدعت ہونا مسلم ہے، اور دوسرى وجہ سے نہيں، كيونكہ جب كسى چيز كے منع يا كراہت پر كوئى دليل دلالت كرتى ہو تو پھر اس كا بدعت ہونا ثابت نہيں ہوتا، كيونكہ ممكن ہے وہ چيز معصيت و نافرمانى ہو مثلا قتل اور چورى اور شراب نوشى وغيرہ، چنانچہ اس تقسيم ميں كبھى بھى بدعت كا تصور نہيں كيا جا سكتا، الا يہ كہ كراہت اور تحريم جس طرح اس كے باب ميں بيان ہوا ہے. 
اور قرافى نے اصحاب سے بدعت كے انكار پر اصحاب سے جو اتفاق ذكر كيا ہے وہ صحيح ہے، اور اس نے جو تقسيم كى ہے وہ صحيح نہيں، اور اس كا اختلاف سے متصادم ہونے اور اجماع كو ختم كرنے والى چيز كى معرفت كے باوجود اتفاق ذكر كرنا بہت تعجب والى چيز ہے، لگتا ہے كہ اس نے اس تقسيم ميں اپنے بغير غور و فكر كيے اپنے استاد ابن عبد السلام كى تقليد و اتباع كى ہے. 
پھر انہوں نے اس تقسيم ميں ابن عبد السلام رحمہ اللہ كا عذر بيان كيا ہے اور اسے " المصالح المرسلۃ " كا نام ديا ہے كہ يہ بدعت ہے، پھر كہتے ہيں: 
" ليكن اس تقسيم كو نقل كرنے ميں قرافى كا كوئى عذر نہيں كيونكہ انہوں نے اپنے استاد كى مراد كے علاوہ اس تقسيم كو ذكر كيا ہے، اور نہ ہى لوگوں كى مراد پر بيان كيا ہے، كيونكہ انہوں نے اس تقسيم ميں سب كى مخالفت كى ہے، تو اس طرح يہ اجماع كے مخالف ہوا " انتہى 
ديكھيں: الاعتصام ( 152 - 153 ).
ہم نصيحت كرتے ہيں كہ آپ كتاب سے اس موضوع كا مطالعہ ضرور كريں كيونكہ رد كے اعتبار سے يہ بہت ہى بہتر اور اچھا ہے اس ميں انہوں نے فائدہ مند بحث كى ہے. 
عز عبد السلام رحمہ اللہ نے بدعت واجبہ كى تقسيم كى مثال بيان كرتے ہوئے كہا ہے: 
" بدعت واجبہ كى كئى ايك مثاليں ہيں:
پہلى مثال: 
علم نحو جس سے كلام اللہ اور رسول اللہ كى كلام كا فہم آئے ميں مشغول ہونا اور سيكھنا يہ واجب ہے؛ كيونكہ شريعت كى حفاظت واجب ہے، اور اس كى حفاظت اس علم كو جانے بغير نہيں ہو سكتى، اور جو واجب جس كے بغير پورا نہ ہو وہ چيز بھى واجب ہوتى ہے. 
دوسرى مثال: 
كتاب اللہ اور سنت رسول صلى اللہ عليہ وسلم ميں سے غريب الفاظ اور لغت كى حفاظت كرنا. 
تيسرى مثال: 
اصول فقہ كى تدوين. 
چوتھى مثال: 
جرح و تعديل ميں كلام كرنا تا كہ صحيح اور غلط ميں تميز ہو سكے، اور شرعى قواعد اس پر دلالت كرتے ہيں كہ شريعت كى حفاظت قدر متعين سے زيادہ كى حفاظت فرض كفايہ ہے، اور شريعت كى حفاظت اسى كے ساتھ ہو سكتى ہے جس كا ہم نے ذكر كيا ہے " انتہى. 
ديكھيں: قواعد الاحكام فى مصالح الانام ( 2 / 173 ). 
اور شاطبى رحمہ اللہ بھى اس كا رد كرتے ہوئے كہتے ہيں: 
" اور عز الدين نے جو كچھ كہا ہے: اس پر كلام وہى ہے جو اوپر بيان ہو چكى ہے، اس ميں سے واجب كى مثاليں اسى كے حساب سے ہيں كہ جو واجب جس كے بغير واجب پورا نہ ہوتا ہو تو وہ چيز بھى واجب ہے ـ جيسا اس نے كہا ہے ـ چنانچہ اس ميں يہ شرط نہيں لگائى جائيگى كہ وہ سلف ميں پائى گئى ہو، اور نہ ہى يہ كہ خاص كر اس كا اصل شريعت ميں موجود ہو؛ كيونكہ يہ تو مصالح المرسلہ كے باب ميں شامل ہے نہ كہ بدعت ميں " انتہى. 
ديكھيں: الاعتصام ( 157 - 158 ).
اور اس رد كا حاصل يہ ہوا كہ:
ان علوم كو بدعت شرعيہ مذمومہ كے وصف سے موصوف كرنا صحيح نہيں، كيونكہ دين اور سنت نبويہ كى حفاظت والى عمومى شرعى نصوص اور شرعى قواعد سے ان كى گواہى ملتى ہے اور جن ميں شرعى نصوص اور شرعى علوم ( كتاب و سنت ) كو لوگوں تك صحيح شكل ميں پہچانے كا بيان ہوا ہے اس سے بھى دليل ملتى ہے.
اور يہ بھى كہنا ممكن ہے كہ: ان علوم كو لغوى طور پر بدعت شمار كيا جا سكتا ہے، نا كہ شرعى طور پر بدعت، اور شرعى بدعت سارى مذموم ہى ہيں، ليكن لغوى بدعت ميں سے كچھ تو محمود ہيں اور كچھ مذموم.
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" شرعى عرف ميں بدعت مذ موم ہى ہے، بخلاف لغوى بدعت كے، كيونكہ ہر وہ چيز جو نئى ايجاد كى گئى اور اس كى مثال نہ ہو اسے بدعت كا نام ديا جاتا ہے چاہے وہ محمود ہو يا مذموم " انتہى 
ديكھيں: فتح البارى ( 13 / 253 ).
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كا يہ بھى كہنا ہے: 
" البدع يہ بدعۃ كى جمع ہے، اور بدعت ہر اس چيز كو كہتے ہيں جس كى پہلے مثال نہ ملتى ہو، لہذا لغوى طور پر يہ ہر محمود اور مذموم كو شامل ہو گى، اور اہل شرع كے عرف ميں يہ مذموم كے ساتھ مختص ہو گى، اگرچہ يہ محمود ميں وارد ہے، ليكن يہ لغوى معنى ميں ہو گى " انتہى 
ديكھيں: فتح البارى ( 13 / 340 ).
اور صحيح بخارى كتاب الاعتصام بالكتاب و السنۃ باب نمر 2حديث نمبر ( 7277 ) پر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كى تعليق پر شيخ عبد الرحمن البراك حفظہ اللہ كہتے ہيں: 
" يہ تقسيم لغوى بدعت كے اعتبار سے صحيح ہے، ليكن شرع ميں ہر بدعت گمراہى ہے، جيسا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے: 
" اور سب سے برے امور دين ميں نئے ايجاد كردہ ہيں، اور ہر بدعت گمراہى ہے " 
اور اس عموم كے باوجود يہ كہا جائز نہيں كہ كچھ بدعات واجب ہوتى ہيں يا مستحب يا مباح، بلكہ دين ميں يا تو بدعت حرام ہے يا پھر مكروہ، اور مكروہ ميں يہ بھى شامل ہے جس كے متعلق انہوں نے اسے بدعت مباح كہا ہے: يعنى عصر اور صبح كے بعد مصافحہ كرنے كے ليے مخصوص كرنا " انتہى
اور يہ معلوم ہونا ضرورى ہے كہ: نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اور صحابہ كرام كے دور ميں كسى بھى چيز كے كيے جانے كے اسباب كے پائے جانے اور موانع كے نہ ہونے كو مدنظر ركھنا چاہيے چنانچہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا ميلاد اور صحابہ كرام كى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے محبت يہ دو ايسے سبب ہيں جو صحابہ كرام كے دور ميں پائے جاتے تھے جس كى بنا پر صحابہ كرام آپ كا جشن ميلاد منا سكتے تھے، اور پھر اس ميں كوئى ايسا مانع بھى نہيں جو انہيں ايسا كرنے سے روكتا. 
لہذا جب نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كے صحابہ كرام نے جشن ميلاد نہيں منايا تو يہ علم ہوا كہ يہ چيز مشروع نہيں، كيونكہ اگر يہ مشروع ہوتى تو صحابہ كرام اس كى طرف سب لوگوں سے آگے ہوتے اور سبقت لے جاتے. 
شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں: 
" اور اسى طرح بعض لوگوں نے جو بدعات ايجاد كر ركھى ہيں وہ يا تو عيسى عليہ السلام كى ميلاد كى طرح عيسائيوں كے مقابلہ ميں ہيں، يا پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى محبتا ور تعظيم ميں ـ اللہ سبحانہ و تعالى اس محبت اور كوشش كا تو انہيں اجروثواب دے گا نہ كہ اس بدعت پر ـ كہ انہوں نے ميلاد النبى كا جشن منانا شروع كر ديا ـ حالانكہ آپ كى تاريخ پيدائش ميں تو اختلاف پايا جاتا ہے ـ اور پھر كسى بھى سلف نے يہ ميلاد نہيں منايا، حالانكہ اس كا مقتضى موجود تھا، اور پھر اس ميں مانع بھى كوئى نہ تھا. 
اور اگر يہ يقينى خير و بھلائى ہوتى يا راجح ہوتى تو سلف رحمہ اللہ ہم سے زيادہ اس كے حقدار تھے؛ كيونكہ وہ ہم سے بھى زيادہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ محبت كرتےتھے، اور آپ كى تعظيم ہم سے بہت زيادہ كرتے تھے، اور پھر وہ خير و بھلائى پر بھى بہت زيادہ حريص تھے.
بلكہ كمال محبت اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى تعظيم تو اسى ميں ہے كہ آپ صلى اللہ عليہ وسلم كى اتباع و پيروى كى جائے، اور آپ كا حكم تسليم كيا جائے، اور ظاہرى اور باطنى طور پر بھى آپ كى سنت كا احياء كيا جائے، اور جس كے ليے آپ صلى اللہ عليہ وسلم مبعوث ہوئے اس كو نشر اور عام كيا جائے، اور اس پر قلبى لسانى اور ہاتھ كے ساتھ جھاد ہو. 
كيونكہ مہاجر و انصار جو سابقين و اولين ميں سے ہيں كا بھى يہى طريقہ رہا ہے اور ان كے بعد ان كى پيروى كرنے والے تابعين عظام كا بھى " انتہى 
ديكھيں: اقتضاء الصراط ( 294 - 295 ). 
اور يہى كلام صحيح ہے جو يہ بيان كرتى ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى محبت تو آپ كى سنت پر عمل كرنے سے ہوتى ہے، اور سنت كو سيكھنے اور اسے نشر كرنے اور اس كا دفاع كرنے ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى محبت ہے اور صحابہ كرام كا طريقہ بھى يہى رہا ہے. 
ليكن ان بعد ميں آنے والوں نے تو اپنے آپ كو دھوكہ ديا ہوا ہے، اور اس طرح كے جشن منانے كے ساتھ شيطان انہيں دھوكہ دے رہا ہے، ان كا خيال ہے كہ وہ اس طرح نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ اپنى محبت كا اظہار كر رہے ہيں، ليكن اس كے مقابلہ ميں وہ سنت كے احياء اور اس پر عمل پيرا ہونے اور سنت نبويہ كو نشر كرنے اور پھيلانے اور سنت كا دفاع كرنے سے بہت ہى دور ہيں. 
سوم: 
اور اس بحث كرنے والے نے جو كلام ابن كثير رحمہ اللہ كى طرف منسوب كى ہے كہ انہوں نے جشن ميلاد منانا جائز قرار ديا ہے، اس ميں صرف ہم اتنا ہى كہيں گے كہ يہ شخص ہميں يہ بتائے كہ ابن كثير رحمہ اللہ نے يہ بات كہاں كہى ہے، كيونكہ ہميں تو ابن كثير رحمہ اللہ كى يہ كلام كہيں نہيں ملى، اور ہم ابن كثير رحمہ اللہ كو اس كلام سے برى سمجھتے ہيں كہ وہ اس طرح كى بدعت كى معاونت كريں اور اس كى ترويج كا باعث بنيں ہوں. 
واللہ اعلم . 

ہفتہ، 21 اکتوبر، 2017

سیرت النبی صلی اللہ علی وسلم

سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کاانسائیکلوپیڈیا

ام عبد منیب

صفحات 675

https://archive.org/download/MohaddisBooksSeptember2017Part3/Seerat-Al-Nabi-Ka-Encyclopedia.PDF
دعوت الی اللہ میں   ٹیلی گرام۔  کا داخلہ
~~~~
https://t.me/dawateallaha360

جمعرات، 19 اکتوبر، 2017

خوارج کی حقیقت

.
دعوت الی اللہ  کی ویب رابطہ Www.dawa360.blogspot.com

خوارج سے متعلق کتب:

~~~~~~~~~~~

۱.
خوارج کی حقیقت

فیصل بن قزار الجاسم

https://archive.org/download/KhawarijKiHaqeeqat/Khawarij-Ki-Haqeeqat.PDF

~~~~~~~~~~~

۲.
فکر خوارج خطرناک فتنوں کی حقیقت

ڈاکٹر علی محمد الصلابی

https://archive.org/download/FikreKhawarajKhatrnakFitnonKiHaqeeqat/Fikre-Khawaraj-Khatrnak-Fitnon-Ki-Haqeeqat.pdf

~~~~~~~~~~~

۳.
خارجیت جدیدہ کا عظیم فتنہ

عبد المعید مدنی

https://archive.org/download/KhaarjiyyatJadeedahKaAzeemFitna/Khaarjiyyat-Jadeedah-Ka-Azeem-Fitna.pdf

~~~~~~~~~~~

۴.
خارجی فرقے کی پہچان

ابو انشاء قاری خلیل الرحمن جاوید

http://www.archive.org/download/Kharji-Firqe-Ki-Pehchan/Kharji-Firqe-Ki-Pehchan.pdf


~~~~~~~~~~~
https://t.me/dawateallaha360

شئیر

.

بدھ، 4 اکتوبر، 2017

اسلامک سوال و جواب : انسان کی آخرت کب شروع ہوتی ہے

اسلامک سوال و جواب : انسان کی آخرت کب شروع ہوتی ہے: انسان کی آخرت کب شروع ہوتی ہے دنیا کی یہ زندگی انسان کی امتحان گاہ ہے، اس دنیاوی زندگی کاخاتمہ ہوتے ہی اس کی آخرت یعنی جزا وسزا کا سلسلہ...

بدھ، 27 ستمبر، 2017

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا قاتل کون؟ روایات کا جائزہ


تحریر غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری
 
نواسئہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، گوشئہ بتول ، نوجوانان جنت کے سردار اور گلستان ِ رسالت کے پھول ، سیدنا و امامنا و محبوبنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو زہر دیا گیا تھا ، جیسا کہ عمیر بن اسحاق کہتے ہیں :
«دخلت أنا ورجل على الحسن بن على نعوده ، فجعل يقول لذلك الرجل : سلنى قبل أن لا تسألنى ، قال : ما أريد أن أسألك شيئاً ، يعافيك الله ، قال : فقام فدخل الكنيف ثم خرج إلينا ، ثم قال : ما خرجت إليكم حتى لفظت طائفة من كبدی أقلبها بهذا العود ، ولقد سقيت السم مرارا ، ما شیء أشد من هذه المرة ، قال : فغدونا عليه من الغد ، فإذا هو في السوق ، قال : وجاء الحسين فجلس عند رأسه ، فقال : يا أخي ، من صاحبك ؟ قال : تريد قتله ؟ ، قال : نعم ، قال : لئن كان الذی أظن ، لله أشد نقمة ، وإن كان بريئاً فما أحب أن يقتل بریء»
’’میں اور ایک آدمی سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما پر عیادت کے لیے داخل ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہما اس آدمی سے کہنے لگے : مجھ سے سوال نہ کر سکنے سے پہلے سوال کر لیں۔ اس آدمی نے عرض کیا: میں آپ سے کوئی سوال نہیں کرنا چاہتا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو عافیت دے۔ آپ رضی اللہ عنہما کھڑے ہوئے اور بیت الخلاء گئے۔ پھر نکل کر ہمارے پاس آئے، پھر فرمایا: میں نے تمہارے پاس آنے سے پہلے اپنے جگر کا ایک ٹکڑا (پاخانے کے ذریعہ) پھینک دیا ہے۔ میں اس کو اس لکڑی کے ساتھ الٹ پلٹ کر رہا تھا۔ میں نے کئی بار زہر پیا ہے، لیکن اس دفعہ سے سخت کبھی نہیں تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ ہم ان کے پاس اگلے دن آئے تو آپ رضی اللہ عنہما حالت ِ نزع میں تھے۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آئے اور آپ کے سر مبارک کے پاس بیٹھ گئے اور کہا : اے بھائی! آپ کو زہر دینے والا کون ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا : کیا آپ اسے قتل کرنا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ! فرمایا : اگر وہ شخص وہی ہے جو میں سمجھتا ہوں تو اللہ تعالیٰ انتقام لینے میں زیادہ سخت ہے۔ اور اگر وہ بری ہے تو میں ایک بری آدمی کو قتل نہیں کرنا چاہتا۔‘‘ (مصنف ابن ابی شیبۃ : ۹۴،۹۳/۱۵، کتاب المحتضرین لابن ابی الدنیا : ۱۳۲، المستدرک للحاکم : ۱۷۶/۳، الاستیعاب لابن عبد البر : ۱۱۵/۳، تاریخ ابن عساکر : ۲۸۲/۱۳، وسندہ حسن) 
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا قاتل کون؟ روایات کا جائزہ
شیعہ حضرات کا کہنا ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہمانے زہر دیا۔ یہ بے حقیقت اوربے ثبوت بات ہے ۔ شیعہ کے دلائل کا علمی وتحقیقی جائزہ پیشِ خدمت ہے:
 دلیل نمبر ۱
«قال ابن عبد البرّ : ذکر أبو زید عمر بن شبہ وأبو بکر بن أبی خیثمة قالا : حدّثنا موسی بن إسماعیل قال : حدّثنا أبو بلال عن قتادة قال : دخل الحسین علی الحسن ، فقال : یا أخی ! إنّی سقیت السمّ ثلاث مرّات ، لم أسق مثل ھذہ المرّة ، إنّی لأضع کبدی ، فقال الحسین : من سقاک یا أخی ؟ قال : ما سؤالک عن ھذا ، أترید أن تقاتلہم ؟ أکلھم إلی الله، فلمّا مات ورد البرید بموتہ علی معاویة ، فقال : یا عجبا من الحسن شرب شربۃ من عسل بماء رومة فقضی نحبہ.»
’’سیدنا حسین رضی اللہ عنہ، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا : اے بھائی ! میں نے کئی بار تین بار زہر پیا ہے، لیکن اس مرتبہ کی طرح کبھی نہیں پلایا گیا۔ میرا جگر نکلتا جا رہا ہے۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے کہا : بھائی ! آپ کو کس نے زہر پلایا ہے؟ فرمایا : اس بارے میں آپ کے سوال کا کیا مطلب ہے؟ کیا آپ ان سے لڑائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ؟ میں ان کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آپ کی موت کا پیغام پہنچا تو آپ کہنے لگے : افسوس ہے کہ حسن نے رومہ کے پانی کے ساتھ شہد کا ایک جام پیا اور فوت ہو گئے۔‘‘ (الاستیعاب لابن عبد البر : ۱۱۵/۱)
تبصرہ :
اس کی سند سخت ترین ’’ضعیف‘‘ ہے۔ اس کا راوی محمد بن سلیم ابوہلال الراسبی (م
۱۶۷ھ) جمہور کے نزدیک ’’ضعیف‘‘ ہے۔ 
جارحین 
(1) امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
قد احتمل حديثه إلّا أنّه يخالف في حديثه قتادة، وهو مضطرب الحديث عن قتادة.
’’اس کی حدیث بیان کی گئی ہے، لیکن یہ قتادہ سے بیان کرنے میں ثقہ راویوں کی مخالفت کرتا ہے۔ قتادہ سے اس کی حدیثیں مضطرب ہیں۔‘‘ 
(الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم : ۲۷۳/۷) 
(2) امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ ابوہلال راسبی کی قتادہ سے روایات کیسی ہیں؟ فرمایا : اس میں ضعف ہے، یہ راوی کچھ اچھا ہے۔‘‘ (الجرح والتعدیل : ۲۷۴/۷، وسندہٗ صحیحٌ) 
(3) امام ابنِ عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
هذه الأحاديث لأبی هلال عن قتادة عن أنس كلّ ذلك، أو عامّتها غير محفوظة.
’’یہ ابوہلال کی قتادہ عن انس احادیث ہیں۔ یہ سب کی سب یا اکثر غیر محفوظ ہیں۔‘‘ 
(الکامل لابن عدی : ۲۱۴/۶، وفی نسخۃ :۲۲۲۰/۶) 
ان تینوں ائمہ کرام کی جرح مفسر ہے۔ یہ روایت بھی ابوہلال کی قتادہ سے ہے، لہٰذا ’’ضعیف‘‘ ہے۔ 
(4) امام ابنِ سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
فيه ضعف.
’’اس میں کمزوری ہے۔‘‘ 
(الطبقات الکبرٰی لابن سعد : ۲۷۵/۷) 
(5) امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
ليس بقوی. :
’’یہ قوی راوی نہیں ہے۔‘‘ 
(الضعفاء للنسائی : ۲۰۲) 
(6) امام ابوزرعہ الرازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
لیّن.
’’کمزور راوی ہے۔‘‘ 
(الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم : ۲۷۴/۷) 
(7) امام یزید بن زریع کہتے ہیں کہ یہ کچھ بھی نہیں۔ (الجرح والتعدیل : ۷/۲۷۳، وسندہٗ صحیحٌ) 
نیز فرماتے ہیں : 
عدلت عن أبی هلال عمدا.
’’میں جان بوجھ کر ابوہلال سے دور ہٹا ہوں۔‘‘ 
(الجرح والتعدیل : ۲۷۳/۷، وسندہٗ صحیحٌ) 
(8) امام یحییٰ بن سعید القطان اس سے روایت نہیں لیتے تھے۔ (الجرح والتعدیل : ۲۷۳/۷، وسندہٗ صحیحٌ) 
(9) امام ابنِ حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
وكان أبو هلال شيخا صدوقا، إلّا أنّه كان يخطیء كثيرا من غير تعمّد، حتّی صار يرفع المراسيل، ولا يعلم، وأكثر ما كان يحدّث من حفظه، فوقع المناكير في حديثه من سوء حفظه.
’’ابوہلال سچا شیخ تھا، لیکن بغیر قصد کے بہت زیادہ غلطیاں اس سے سرزد ہوتی تھیں، یہاں تک کہ وہ انجانے میں مرسل روایات کو مرفوع بیان کرنے لگا۔ وہ اکثر اپنے حافظے سے بیان کرتا تھا، لہٰذا اس کے حافظے کی خرابی کی وجہ سے منکر روایات اس کی حدیث میں داخل ہو گئیں۔‘‘ 
(المجروحین لابن حبان : ۲۹۵/۲۔۲۹۶) 
(10) امام البزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
واحتملوا حديثه، وإن كان غير حافظ.
’’محدثین نے اس کی حدیثیں لی ہیں، اگرچہ یہ حافظے والا نہیں تھا۔‘‘ 
(مسند البزار : ۱۷۹۶) 
(11) امام ابن ابی حاتم الرازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
محلّه الصدق، لم يكن بذاك المتين.
’’اس کا مقام سچ والا ہے۔ زیادہ مضبوط راوی نہ تھا۔‘‘ 
(الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم : ۲۷۴/۷) 
(12) امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتاب الضعفاء (۴۸۲۔۴۸۳، ۳۲۴ ) میں ذکر کیا ہے۔ 
(13) امام عقیلی رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتاب الضعفاء الکبیر (۷۴/۴) میں ذکر کیا ہے۔ 
معدلین 
(1) امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ثقہ کہا ہے۔ (سوالات الحاکم : ۴۶۸)
یہ قول امام دارقطنی کے اپنے ہی قول کے معارض ہے، لہٰذا ساقط ہے۔
امام دارقطنی فرماتے ہیں کہ یہ’’ ضعیف ‘‘راوی ہے۔ 
(العلل : ۴۰/۴ بحوالۃ موسوعۃ اقوال الدارقطنی) 
(2) امام ابوحاتم الرازی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: 
سلام بن مسكين أحبّ إليك أم أبو هلال ؟ قال : أبو هلال أشبه بالمحدثين.
’’سلام بن مسکین آپ کو زیادہ اچھے لگتے ہیں یا ابوہلال ؟ فرمایا : ابوہلال محدثین کے زیادہ قریب ہے۔‘‘ 
(الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم : ۲۷۴/۷)
یہ جمہور کی جرح کے معارض ومخالف قول ناقابل قبول ہے۔ 
(3) امام ابوحاتم الرازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
كان سليمان بن حرب جيّد الرأی فی أبی هلال الراسبيّ
’’سلیمان بن حرب، ابوہلال الراسبی کے بارے میں اچھی رائے رکھتے تھے۔‘‘ 
(الجرح والتعدیل : ۲۷۴/۷، وسندہٗ صحیحٌ) 
(4) امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
ليس بصاحب كتاب، ليس به بأس.
’’یہ صاحب کتاب نہ تھا۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔‘‘ 
(الجرح والتعدیل : ۲۷۴/۷، وسندہٗ صحیحٌ)
یہ قول خود امام صاحب کے اپنے قول کے معارض ومخالف ہے، لہٰذا یہ ناقابل التفات ہے۔ 
امام صاحب خود فرماتے ہیں : 
لم يكن له كتاب، وهو ضعيف الحديث.
’’اس کے پاس کوئی کتاب نہ تھی۔ اس کی حدیث ضعیف ہے۔‘‘ 
(تاریخ ابن ابی خیثمۃ : ۲۲۰۵) 
(5) امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے ثقہ کہا ہے۔ (تہذیب الکمال : ۱۶/۳۱۹)
یہ قول مردود ہے، کیونکہ اس کے راوی ابوعبید الآجری کے حالات نہیں مل سکے۔ 
(6) امام عبدالرحمن بن مہدی اس سے روایت لیتے تھے اور وہ غالبا ثقہ سے روایات بیان کرتے تھے۔ 
(7،8،9) امام ابن خزیمہ (۲۰۴۴) ، امام ابوعوانہ (۴۰۱۳) ، امام حاکم (۳۳۳/۴) نے اس کی حدیث کی تصحیح کر کے اس کو ثقہ قرار دیا ہے۔ 
ثابت ہوا کہ ابوہلال الراسبی البصری جمہور کے نزدیک ’’ضعیف‘‘ ہے۔ 
خصوصاً جب یہ قتادہ سے بیان کرے تو ’’ضعیف‘‘ ہوتا ہے، لہٰذا حافظ علائی رحمہ اللہ کا یہ کہنا کہ جمہور نے اس کی توثیق کی ہے (فیض القدیر للمناوی: ۳۸۱/۶) صحیح نہیں۔ 
باقی متاخرین، مثلاً حافظ ذہبی رحمہ اللہ (العبر : ۷۷/۱)، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (التلخیص : ۸۵/۳) ، حافظ ہیثمی رحمہ اللہ (مجمع الزوائد : ۱۹۷/۵)، بوصیری (مصباح الزجاجہ : ۱۵۱۸) ، علامہ قرطبی(التذکرۃ : ۳۸۳) وغیرہ کا اسے ثقہ قرار دینا متقدمین کے مقابلے میں قابل قبول نہیں۔ 
دوسری بات یہ ہے کہ اس کی سند میں قتادہ بن دعامہ مدلس ہیں، لہٰذا روایت ’’ضعیف‘‘ ہے۔ اصول یہ ہے کہ جب ثقہ مدلس بخاری ومسلم کے علاوہ بصیغۂ عن یا قال روایت بیان کرے تو وہ ’’ضعیف‘‘ ہوتی ہے۔ 
امام ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
قتادة إذا لم يقل : سمعت وخولف في نقله، ولا تقوم به حجّة.
’’قتادہ جب سماع کی تصریح نہ کریں اور اپنی روایت میں ثقہ راویوں کی طرف سے مخالف کیے جائیں تو ان سے حجت نہیں لی جا سکتی۔‘‘ 
(التمہید لابن عبد البر : ۳۰۷/۳) 
تیسری بات یہ ہے کہ قتادہ بن دعامہ کا حسنین کریمین سے سماع ثابت نہیں، لہٰذا یہ قول منقطع ہے اور منقطع روایت حجت نہیں ہوتی۔ 
دلیل نمبر ۲
«وقال الهيثم بن عدی : دسّ معاوية إلی ابنة سهيل بن عمرة امرأة الحسن مأة ألف دينار علی أن تسقيه شربة بعث بها إليها ففعلت.»
’’ہیثم بن عدی نے کہا ہے کہ معاویہ ( رضی اللہ عنہ ) نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی بیوی سہیل بنت عمرہ کو ایک ہزار دینا کے عوض سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زہر پلانے پر اکسایا۔ اس نے زہر اس کے پاس بھیجی تو اس نے ایسا کر دیا۔‘‘ (انساب الاشراف لاحمد بن یحیی البلاذری : ۵۹/۳)
تبصرہ :
یہ روایت ’’موضوع‘‘ (جھوٹ کا پلندا) ہے۔
اس کا راوی ہیثم بن عدی بالاتفاق ’’کذاب‘‘ اور ’’متروک الحدیث‘‘ ہے۔ اس لیے شیعہ شنیعہ اس کی روایات کو سینے سے لگائے بیٹھے ہیں۔
دلیل نمبر ۳
« قال الإمام ابن سعد : أنا محمّد بن عمر : نا عبدالله بن جعفر عن عبد الله بن حسن قال : كان الحسن بن علی رجلا كثير نكاح النساء ، وكنّ أقلّ ما يحظين عنده ، وكان قلّ امرأة يتزوّجها إلّا أحبّته وضنت به ، فيقال : إنّه كان سقی ، ثم أفلت ، ثم سقی فافلت ، ثمّ كانت الآخرة توفّی فيها ، فلمّا حضرته الوفاة ، قال الطبيب ، وهو يختلف إليه : هذا رجل قد قطع السم أمعاءه ، فقال الحسين : يا أبا محمّد ! خبّرنی من سقاك السمّ ، قال : ولم يا أخی ؟ قال : أقتله ، واللہ قبل أن أدفنك ، أو لا أقدر عليه ، أو يكون بأرض أتكلّف الشخوص إليه ، فقال : يا أخی ! إنّما هذه الدنيا ليال فانية دعه ، حتّی ألتقی أنا وهو عند اللہ ، فأبی أن يسمّيه ، وقد سمعت بعض من يقول : كان معاوية قد تلطّف لبعض خدمه أن يسقيه سمّا.»
’’عبداللہ بن حسن بیان کرتے ہیں کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ عورتوں سے بہت زیادہ نکاح کرتے تھے۔ عورتیں ان کے پاس بہت کم عرصہ گزار پاتیں۔ تقریباً سب عورتیں، جن سے آپ شادی کرتے، وہ آپ سے محبت کرتیں۔ کہا جاتا ہے کہ ان کو زہر پلایا گیا، لیکن وہ جانبر ہو گئے۔ پھر زہر پلایا گیا، لیکن وہ پھر جانبر ہو گئے۔ جب آخری دفعہ تھی تو وہ اس میں فوت ہو گئے۔ جب ان کی وفات کا وقت حاضر ہوا تو طبیب نے ان کی طرف آتے ہوئے کہا: یہ ایسا آدمی ہے، جس کی انتڑیاں زہر نے کاٹ دی ہیں۔ حسین رضی اللہ عنہ نے کہا : اے ابومحمد ! مجھے بتائیے کہ آپ کو زہر کس نے پلائی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : کیوں اے بھائی؟ حسین رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم میں اسے آپ کو دفن کرنے سے پہلے قتل کر دوں گا یا اس پر قادر نہ ہو سکوں گا یا وہ ایسی زمین میں ہو گا، جہاں میرا داخل ہونا مشکل ہو گا۔ اس پر حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے میرے بھائی ! یہ دنیا چند فانی راتوں پر مبنی ہے۔ اس شخص کو چھوڑ، میں اسے اللہ کے ہاں مل لوں گا۔ یہ کہہ کر انہوں نے اس کا نام بتانے سے انکار کر دیا۔ میں نے بعض لوگوں سے سنا ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے حسین رضی اللہ عنہ کے کسی خادم کو زہر پلانے پر ورغلایا تھا۔‘‘ (تاریخ ابن عساکر : ۲۸۲/۱۳،۲۸۳)
تبصرہ : یہ روایت سخت ترین ’’ضعیف‘‘ ہے۔
اس کا راوی محمد بن عمر الواقدی ’’کذاب‘‘ ہے۔
اس میں ایک اور علت بھی ہے۔
دلیل نمبر ۴
ابوبکر بن حفص بیان کرتے ہیں :
«توفّی الحسن بن علی وسعد بن أبی وقّاص فی أيّام بعد ما مضی من إمارة معاوية عشر سنين ، وكانو يرون أنّه سقاهما سمّا.»
’’سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد کے دس سال گزرنے کے بعد فوت ہوئے۔ لوگوں کا خیال تھا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو زہر پلایا تھا۔‘‘ (مقال الطالبین لابی الفرج علی بن الحسین الاصبہانی : ص ۲۰)
تبصرہ : یہ روایت شیطان لعین نے گھڑی ہے، جو رافضیوں کے ہاتھ لگ گئی ہے۔ انہوں نے اس کو اپنے مذہب وعقیدہ پر دلیل بنا لیا ہے۔ 
(1) صاحب ِ کتاب اموی شیعہ ہے۔ اس کے بارے میں توثیق ثابت نہیں۔
اس کے شاگرد محمد بن ابی الفوارس کہتے ہیں : 

وكان قبل أن يموت اختلط.
’’یہ اپنی موت سے پہلے بدحواس ہو گیا تھا۔‘‘ 
(تاریخ بغداد للخطیب : ۳۹۸/۱۱) 
(2) اس کے راوی احمد بن عبیداللہ بن عمار کے بارے میں امام خطیب بغدادی فرماتے ہیں: 
وكان يتشيّع.
’’یہ شیعہ مذہب سے تعلق رکھتا تھا۔‘‘ 
(تاریخ بغداد : ۲۵۲/۴) 
حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
من رؤوس الشيعة.
’’یہ شیعہ کے سرداروں میں سے تھا۔‘‘ 
(میزان الاعتدال للذہبی : ۱۱۸/۱) 
اس کے بارے میں ادنیٰ کلمۂ توثیق بھی ثابت نہیں۔ 
(3) اس کا مرکزی راوی عیسیٰ بن مہران ہے۔ اس کے بارے میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
رافضيّ، كذّاب.
’’یہ رافضی اور بہت بڑا جھوٹا تھا۔‘‘ 
(میزان الاعتدال للذہبی : ۳۲۴/۳) 
امام ابوحاتم الرازی فرماتے ہیں کہ یہ کذاب آدمی تھا۔ (الجرح والتعدیل : ۲۹۰/۶) 
امام ابنِ عدی فرماتے ہیں : 
حدّث بأحاديث موضوعة مناكير، محترق في الرفض.
’’اس نے بہت سی من گھڑت اور منکر روایات بیان کی ہیں۔ یہ کٹر قسم کا رافضی تھا۔‘‘ 
(الکامل لابن عدی : ۲۶۰/۵) 
نیز فرماتے ہیں : 
والضعف بيّن علی حديثه
’’اس کی حدیث پر ضعف واضح ہے۔‘‘ 
(الکامل لابن عدی : ۲۶۱/۵) 
امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
رجل سوء، ومذهب سوء.
’’آدمی بھی بُرا تھا اور اس کا مذہب بھی بُراتھا۔‘‘ 
(الضعفاء والمتروکون للدارقطنی : ۴۱۸) 
امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
كان عيسیٰ بن مهران من شياطين الرافضة ومردتهم، ووقع إليّ كتاب من تصنيفه في الطعن علی الصحابة وتضليلهم وإكفارهم وتفسيقهم، فوالله لقد قف شعري عند نظري فيه، وعظم تعجّبي ممّا أودع ذلك الكتاب من الأحاديث الموضوعة…
’’عیسیٰ بن مہران شیاطین اور لعین قسم کے رافضیوں میں سے تھا۔ مجھے اس کی تصنیفات میں سے ایک کتاب ملی، جو کہ صحابہ کرام پر طعن، ان کو گمراہ قرار دینے، ان کو فاسق کہنے اور ان کی تکفیر پر مبنی تھی۔ اللہ کی قسم ! اس کتاب کو دیکھتے ہوئے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور اس کتاب میں اس نے جو من گھڑت احادیث ذکر کی تھیں، ان سے میں بڑا متعجب ہوا۔۔۔‘‘ 
(تاریخ بغداد للخطیب : ۱۶۷/۱۱) 
تنبیہ : 
لسان المیزان ( ۴۰۷/۴) میں اس کے حالات لکھتے ہوئے کسی ناسخ نے غلطی سے ”ولحقه ابن جرير“ (ابنِ جریر اس کو ملے تھے) کی بجائے ”وثّقہ ابن جریر“ (ابنِ جریر نے اسے ثقہ قرار دیا ہے) لکھ دیا ہے۔ 
اس کذاب کی روایت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف پیش کرنا انصاف کا خون کرنے کے مترادف ہے۔ حیرانی کی بات ہے کہ یہ لوگ یوم ِ حساب سے غافل ہیں۔ کیا یہ خیال کرتے ہیں کہ صحابہ کرام کے خلاف ان کے ہاتھوں کی لکھی ہوئی تحریروں اور زبان سے نکلی ہوئی باتوں کے بارے میں کوئی پوچھ گچھ نہ ہو گی؟ 
دلیل نمبر ۵
عمیر بن اسحاق بیان کرتے ہیں :
«كنت مع الحسن والحسين في الدار ، فدخل الحسن المخرج ، ثمّ خرج ، فقال : لقد سقيت السمّ…»
’’میں حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے ساتھ گھر میں تھا۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ دروازے میں داخل ہوئے، پھر باہر آئے اور فرمایا : میں نے زہر پیا ہے۔۔۔‘‘ (مقال الطالبین لابی الفرج الاصبہانی الشیعی الاموی : ص ۲۰)
تبصرہ :
اس من گھڑت روایت کا معنیٰ ومفہوم وہی ہے اور اس میں علتیں بھی بعینہٖ وہی ہیں، جو اس سے پہلے والی روایت میں ہیں۔
 
دلیل نمبر ۶
ابنِ جعدۃ کہتے ہیں :
«كانت جعدة بنت الأشعب بن قيس تحت الحسن بن علی ، فدسّ إليها يزيد أن سمي حسنا ، إنّی مزوّجك ، ففعلت ، فلمّا مات الحسن بعثت إليه الجعدة ، تسأل يزيد الوفاء بما وعدها ، فقال : إنّا والله لم نرضك للحسن ، فنرضاك لأنفسنا.»
’’جعدہ بنت الاشعت بن قیس سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھی۔ یزید نے اسے بہلایا کہ تُو حسن کو زہر دے دے تو میں تجھ سے نکاح کر لوں گا۔ اس نے ایسا کر دیا۔ جب حسن رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو جعدہ نے یزید سے اپنے وعدے کو وفا کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم ! ہم نے تجھے حسن کے لیے پسند نہیں کیا تھا، اپنے لیے کیسے کریں۔‘‘ (تاریخ ابن عساکر : ۲۸۴/۱۳، المنتظم لابن الجوزی : ۲۲۶/۵)
تبصرہ :
یہ جھوٹا قصہ ہے۔ 
(1) اس کا گھڑنے والا یزید بن عیاض بن جعدۃ اللیثی ہے۔ امام یحییٰ بن معین، امام علی بن المدینی، امام بخاری، امام مسلم، امام نسائی، امام ابنِ عدی، امام ابوزرعہ الرازی، امام ابوحاتم الرازی، امام ساجی، امام جوزجانی، امام عمرو بن علی الفلاس وغیرہم نے اسے ’’ضعیف، منکرالحدیث ‘‘ اور ’’متروک الحدیث‘‘ کے الفاظ کے ساتھ مجروح کیا ہے۔ اس کے بارے میں ادنیٰ کلمۂ توثیق بھی ثابت نہیں ہے۔ 
(2) اس کے دوسرا راوی محمد بن خلف بن المرزبان الآجری کے بارے میں متقدمین ائمہ محدثین میں سے کسی نے توثیق کا کوئی کلمہ استعمال نہیں کیا، بلکہ امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: 
هو أخباری، ليّن.
’’یہ تاریخ دان تھا اور کمزور راوی تھا۔‘‘ 
(سوالات السہمی : ۱۰۴) 
لہٰذا حافظ ذہبی رحمہ اللہ (سیر اعلام النبلاء : ۲۶۴/۱۴) کا اسے صدوق قرار دینا صحیح نہیں۔
دلیل نمبر ۷
«عن أمّ موسی أنّ جعدة بنت الأشعث ابن قيس سقت الحسن السمّ ، فاشتكی منه شكاة ، قال : فكان يوضع تحته طست وترفع أخری نحوا من أربعين يوما.»
’’ام موسیٰ بیان کرتی ہیں کہ جعدۃ بنت الاشعث بن قیس نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زہر پلایا۔ اس سے آپ بیمار ہو گئے۔ آپ کے نیچے ایک برتن رکھا جاتا اور دوسرا اُٹھایا جاتا۔ تقریباً چالیس دن تک یہ معاملہ رہا۔‘‘ (تاریخ ابن عساکر :۲۸۴/۱۳)
تبصرہ :
اس کی سند ’’ضعیف‘‘ ہے۔
یعقوب نامی راوی کا تعین درکار ہے، نیز ام ِ موسیٰ سے اس کا سماع مطلوب ہے۔
 
الحاصل :
وہ روایات جن میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ یا یزید کے بارے میں ہے کہ انہوں نے سیدنا حسن ابن علی رضی اللہ عنہما کو زہر دیا تھا، ان کا جھوٹا ہونا واضح ہو گیا ہے۔ ان سندوں کے علاوہ اگر کسی کے پاس کوئی سند ہے تو وہ ہمیں پیش کرے۔ ہم اس کا تجزیہ کریں گے۔ 
سند دین ہے۔ بے سند اور ’’ضعیف‘‘ روایات پیش کرنا اور ان پر اپنے عقیدہ وعمل کی بنیاد ڈالنا اہل حق کا وطیرہ نہیں۔ نیز ’’ضعیف‘‘ اور بے سروپا روایات صحابہ کرام کے خلاف پیش کرنا صحیح نہیں، کیونکہ یہ بدگمانی کے زمرہ میں آئے گا۔ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ 
دوسری بات یہ ہے کہ یہ جھوٹی روایات رافضی شیعوں کے عقیدہ کے منافی بھی ہیں، کیونکہ شیعہ مذہب کی معتبر کتابوں میں لکھا ہے: 
إنّ الأئمّة يعلمون متي يموتون، وإنّهم لا يموتون إلّا باختيارهم.
’’ائمہ جانتے ہوتے ہیں کہ کب مریں گے اور وہ اپنے اختیار ہی سے مرتے ہیں۔‘‘ 
(اصول الکافی الکلینی : ۲۵۸/۱، الفصول المہمۃ للجرالعاملی : ص ۱۵۵) 
ملا باقر مجلسی صاحب لکھتے ہیں : 
لم يكن إمام إلّا مات مقتولا أو مسموما
’’کوئی امام نہیں، مگر وہ قتل یا زہر کے ذریعے مرا ہے۔‘‘ 
(بحار الانوار للمجلسی : ۳۶۴/۴۳) 
جب ان کا عقیدہ ہے کہ ائمہ عالم الغیب ہوتے ہیں تو سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو علم کیوں نہ ہو سکا کہ اس کھانے میں زہر ہے؟ 
یہ کہنا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو زہر دیا ہے، بہت بڑا جھوٹ اور اتہام ہے، کیونکہ اس سلسلہ میں جمیع روایات من گھڑت اور خود ساختہ ہیں۔ وااللہ أعلم، وعلمہ أحکم

🌐محاضراتِ جلال الدین قاسمی

🌐محاضراتِ جلال الدین قاسمی 1- کیا سلفی (اہل حدیث) دہشت گرد ہیں؟ https://youtu.be/n6MXkZqzAc0 2- سلفیت کا تعارف https://youtu.be/W99...