اتوار، 7 جنوری، 2018

اتحاد کے متعلق کتب

.

*اتحاد و اتفاق سے متعلق کتب: *

~~~~

۱.
مسلمانوں کےدرمیان اتحاد و وحدت اور تہذیبی چیلنجز کے مقابلہ میں اس کا اثر

ڈاکٹر عبداللہ بن ابراہیم بن علی الطریقی

https://archive.org/download/mohaddis-books-1-6-2017-to-30-6-2017/Muslmano-Key-Darmiyaan-Ittehad-o-Wahdat.pdf

~~~~

۲.
اتحاد امت نظم جماعت

میاں محمد جمیل ایم۔اے

http://www.archive.org/download/Itthad-Ummat-Nazam-Jamat/Itthad-Ummat-Nazam-Jamat.pdf

~~~~

۳.
اصحاب ثلاثہ کے مقام پر شیعہ سنی اتحاد

عبد الرحمن عزیز الہ آبادی

https://archive.org/download/AsHaabESalaasaKeyMuqamParShiaSunniIttehad/As-Haab-e-Salaasa-Key-Muqam-Par-Shia-Sunni-Ittehad.PDF

~~~~

۴.
اتحاد ملت کا نقیب فکر اہل حدیث ہی کیوں ؟

سعید احمد چنیوٹی

https://archive.org/download/ItihadeMillatKaNaqeebFikreAhleHadithHiKiyon/Itihade-Millat-Ka-Naqeeb-Fikre-Ahle-Hadith-Hi-Kiyon.pdf

~~~~

۵.
*اسلام میں اختلاف کے اصول وآداب*

ڈاکٹر طہٰ جابر فیاض العلوانی

http://www.archive.org/download/Islam-Men-Ikhtalaf-k-Usool-o-Aadab/Islam-Men-Ikhtalaf-k-Usool-o-Aadab.pdf

~~~~

۶.
*تیسرا زاویہ اختلاف سے اتفاق تک*

ﻣﺼﻨﻒ
ﭘﺮﻭﻓﯿﺴﺮ ﺣﻤﯿﺪ ﺍﻟﻠﮧ

ﺻﻔﺤﺎﺕ 287

https://archive.org/download/TeesraZawiyaIkhtilaafSeIttefaqTak/Teesra-Zawiya-Ikhtilaaf-Se-Ittefaq-Tak.pdf

~~~~

۷.
یہ اختلاف کب تک ؟

محمد بن صالح العثیمین

http://www.archive.org/download/Ye-Ikhtalaf-Kab-Tak/Ye-Ikhtalaf-Kab-Tak.pdf

~~~~


ثواب جاریہ کیلئے شئیر کریں.

.

جمعہ، 5 جنوری، 2018

وہ احادیث جن کا حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیا۔

الحمد للہ:
سنت نبوی شرعی مصادر میں سے بنیادی ماخذ ہے اور قرآن کریم نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے منقول ہر چیز پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: 
(وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ) 
ترجمہ: اور رسول تمہیں جو کچھ بھی دے اسے تھام لو اور جس سے روکے اس سے رک جاؤ، اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ شدید سزا دینے والا ہے۔[الحشر :7]
اس لیے احادیث یاد کرنے کی ترغیب کے سلسلے میں ہمیں یہ کہا گیا ہے کہ جس قدر ہم سے احادیث یاد ہوں کرنی چاہییں یہ نہیں کہ کچھ یاد کر لیں اور کچھ نہ کیں۔
مزید زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ  میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: (اللہ تعالی اس شخص کو ہمیشہ تر و تازہ رکھے جو ہم سے کوئی ایک حدیث سنے اور اسے  یاد رکھے  یہاں تک  کہ وہ دوسروں کے پہنچا دے؛ بہت سے فقہ کے حاملین [ایسے لوگوں کو بات پہنچا دیتے ہیں جو ] ان سے بھی زیادہ سمجھ دار ہوتے ہیں، اور کتنے ہی فقہ کے حاملین سمجھدار نہیں ہوتے) ترمذی: (2656)
امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ: "اس مسئلے سے متعلق عبد اللہ بن مسعود، معاذ بن جبل، جبیر بن مطعم، ابو درداء اور انس رضی اللہ عنہم کی روایات ہیں جبکہ زید بن ثابت  کی روایت حسن ہے"، نیز ابو داود  (3660) نے اسے روایت کیا ہے اور البانی نے اسے "صحیح سنن ترمذی " میں صحیح کہا ہے۔
نیز یہ بات بھی واضح ہے کہ یاد کرنے کے قابل کوئی بھی چیز ہو اس کی اہمیت اس کے مضمون سے ہوتی ہے  کہ وہ کس چیز کے متعلق  ہے؛ لہذا اگر واجبات اور حرام کردہ چیزوں سے متعلق کوئی چیز ہو تو پھر اسے یاد کرنا اور اسے سمجھنا مزید پختہ ہو جاتا ہے اور پھر اس کے بعد سنتوں ، مستحبات اور مکروہات کا درجہ آتا ہے۔
محترم بھائی!
اس لیے مسلمان کو جن امور کی نصیحت کی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ احکام والی احادیث یاد کرے جن کی روزمرہ زندگی میں ضرورت پڑتی ہے، مثلاً: طہارت، نماز، روزہ، پھر زکاۃ [اگر اس پر واجب ہوتی ہو تو]اور حج  ۔۔۔ الخ وغیرہ کی احادیث یاد کرے اور سمجھے۔
ابتدائی طور پر  احکام والی روایات کے اعتبار سے مفید  کتاب عمدۃ الاحکام ہے جو کہ حافظ عبدالغنی مقدسی کی تالیف ہے، پھر اس کے بعد ابن حجر کی بلوغ المرام کا درجہ آتا ہے۔
اسی طرح آدابِ عامہ اور اخلاقیات سے متعلق روایات بھی انسان کو معلوم ہونی چاہییں، اس ضمن میں امام بخاری کی "ادب المفرد" اور امام نووی کی جامع ترین کتاب : ریاض الصالحین  بھی شامل ہے۔
تاہم اگر ابتدا میں کوئی شخص اربعین نوویہ یاد کرنا شروع کرے پھر  اس کے بعد حافظ ابن رجب کی جانب سے کیا گیا اس پر اضافہ بھی یاد کر لے تو یہ بہت اچھی بات ہے اس میں بہت سے فوائد ہیں۔ انہیں یاد کرنے کا ان شاء اللہ زیادہ فائدہ ہو گا۔
لہذا ایسی احادیث کو زبانی یاد کرنا اچھی بات ہے، لیکن اگر احادیث کے الفاظ یاد کرنا مشکل ہو تو پھر معانی اور مفہوم کو اپنے ذہن میں لازمی بٹھائے، اس لیے ان کتب احادیث کی شروحات اللہ کے فضل سے میسر ہیں اور بذریعہ انٹرنیٹ بھی ان تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
لیکن کچھ احادیث ایسی ہیں جنہیں یاد کرتے ہوئے ان کے الفاظ کو اچھی طرح یاد کرنا ضروری ہے ان میں تبدیلی ممکن نہیں ہے، ان میں دعاؤں اور اذکار پر مشتمل احادیث آتی ہیں۔
اس کی دلیل یہ ہے کہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں فرمایا: (جب تم اپنے بستر پر آنے کا ارادہ کرو تو نماز جیسا وضو کرو اور پھر دائیں کروٹ لیٹ کر کہو: "اَللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لاَ مَلْجَأَ وَلاَ مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، اَللَّهُمَّ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ"[یا اللہ! میں نے اپنا چہرہ تیری جانب متوجہ کر دیا ہے، میں نے اپنا معاملہ تیرے سپرد کر دیا ہے، اور تجھ سے خوف اور امید کے ساتھ اپنی پشت پناہی تیری طرف سے چاہتا ہوں؛ تیرے سوا کوئی پناہ گاہ  اور نجات دہندہ نہیں ہے ، یا اللہ! میں تیری نازل کردہ کتاب پر اور تیرے بھیجے ہوئے نبی پر ایمان لایا] اگر تم اسی رات فوت ہو گئے تو تم فطرت پر مرو گے ، نیز ان الفاظ کو سونے سے پہلے اپنے آخری کلمات بناؤ۔  سیدنا براء کہتے ہیں  کہ میں نے پھر یہی الفاظ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو سنائے  اور جب میں " اَللَّهُمَّ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ " پر پہنچا تو میں نے کہا: "وَرَسُوْلِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ " تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے میری تصحیح فرمائی اور کہا نہیں ایسے کہو: " وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ") بخاری: (247) ، مسلم: (2710)
اس حدیث کی شرح میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں: 
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے سیدنا براء کو " بِنَبِيِّكَ" کی بجائے " رَسُوْلِكَ" کہنے پر کیوں ٹوکا؟ اس کی حکمت میں سب سے بہترین  بات یہ کہی گئی ہے کہ : اذکار کے الفاظ توقیفی ہوتے ہیں، اور ان اذکار  کی خصوصیات ہوتی ہیں جن میں قیاس کا کوئی عمل دخل نہیں؛ اس لیے جن الفاظ کے ساتھ اذکار منقول ہوں ان کی پابندی کرنا ضروری ہے" ختم شد
"فتح الباري" (11 / 112)
نیز ادعیہ اور اذکار کے حوالے سے مفید ترین اور مشہور ترین  امام نووی کی کتاب: "الاذکار"  ہے۔
تو اس طرح سے آپ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی احادیث یاد کرنے کا اہتمام کر سکتے ہیں۔
واللہ اعلم.

بدھ، 29 نومبر، 2017

میلاد کی شرعی حیثیت


الحمد للہ:
اول: 
سب سے پہلى بات تو يہ ہے كہ علماء كرام كا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى تاريخ پيدائش ميں اختلاف پايا جاتا ہے اس ميں كئى ايك اقوال ہيں جہيں ہم ذيل ميں پيش كرتے ہيں: 
چنانچہ ابن عبد البر رحمہ اللہ كى رائے ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى پيدائش سوموار كے دن دو ربيع الاول كو پيدا ہوئے تھے. 
اور ابن حزم رحمہ اللہ نے آٹھ ربيع الاول كو راجح قرار ديا ہے. 
اور ايك قول ہے كہ: دس ربيع الاول كو پيدا ہوئے، جيسا كہ ابو جعفر الباقر كا قول ہے. 
اور ايك قول ہے كہ: نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى پيدائش بارہ ربيع الاول كو ہوئى، جيسا كہ ابن اسحاق كا قول ہے.
اور ايك قول ہے كہ: نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى پيدائش رمضان المبارك ميں ہوئى، جيسا كہ ابن عبد البر نے زبير بكّار سے نقل كيا ہے. 
ديكھيں: السيرۃ النبويۃ ابن كثير ( 199 - 200 ). 
ہمارے علم كے ليے علماء كا يہى اختلاف ہى كافى ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے محبت كرنے والے اس امت كے سلف علماء كرام تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى پيدائش كے دن كا قطعى فيصلہ نہ كر سكے، چہ جائيكہ وہ جشن ميلاد النبى صلى اللہ عليہ وسلم مناتے، اور پھر كئى صدياں بيت گئى ليكن مسلمان يہ جشن نہيں مناتے تھے، حتى كہ فاطميوں نے اس جشن كى ايجاد كى.
شيخ على محفوظ رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" سب سے پہلے يہ جشن فاطمى خلفاء نے چوتھى صدى ہجرى ميں قاہر ميں منايا، اور انہوں نے ميلاد كى بدعت ايجاد كى جس ميں ميلاد النبى صلى اللہ عليہ وسلم، اور على رضى اللہ تعالى عنہ كى ميلاد، اور فاطمۃ الزہراء رضى اللہ تعالى عنہا كى ميلاد، اور حسن و حسين رضى اللہ تعالى عنہما، اور خليفہ حاضر كى ميلاد، منانے كى بدعت ايجاد كى، اور يہ ميلاديں اسى طرح منائى جاتى رہيں حتى كہ امير لشكر افضل نے انہيں باطل كيا. 
اور پھر بعد ميں خليفہ آمر باحكام اللہ كے دور پانچ سو چوبيس ہجرى ميں دوبارہ شروع كيا گيا حالانكہ لوگ تقريبا اسے بھول ہى چكے تھے. 
اور سب سے پہلا شخص جس نے اربل شہر ميں ميلاد النبى صلى اللہ عليہ وسلم كى ايجاد كى وہ ابو سعيد ملك مظفر تھا جس نے ساتويں صدى ہجرى ميں اربل كے اندر منائى، اور پھر يہ بدعت آج تك چل رہى ہے، بلكہ لوگوں نے تو اس ميں اور بھى وسعت دے دى ہے، اور ہر وہ چيز اس ميں ايجاد كر لى ہے جو ان كى خواہش تھى، اور جن و انس كے شياطين نے انہيں جس طرف لگايا اور جو كہا انہوں وہى اس ميلاد ميں ايجاد كر ليا " انتہى 
ديكھيں: الابداع مضار الابتداع ( 251 ). 
دوم: 
سوال ميں ميلاد النبى كے قائلين كا يہ قول بيان ہوا ہے كہ: 
جو تمہيں كہے كہ ہم جو بھى كرتے ہيں اس كا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم يا عہد صحابہ يا تابعين ميں پايا جانا ضرورى ہے " 
اس شخص كى يہ بات اس پر دلالت كرتى ہے كہ ايسى بات كرنے والے شخص كو تو بدعت كے معنى كا ہى علم نہيں جس بدعت سے ہميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بچنے كا بہت سارى احاديث ميں حكم دے ركھا ہے؛ اس قائل نے جو قاعدہ اور ضابطہ ذكر كيا ہے وہ تو ان اشياء كے ليے ہے جو اللہ كا قرب حاصل كرنے كے ليے كى جاتى ہيں يعنى اطاعت و عبادت ميں يہى ضابطہ ہو گا. 
اس ليے كسى بھى ايسى عبادت كے ساتھ اللہ كا قرب حاصل كرنا جائز نہيں جو ہمارے ليے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے مشروع نہيں كى، اور يہ چيز نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے جو ہميں بدعات سے منع كيا ہے اسى سے مستنبط اور مستمد ہے، اور بدعت اسے كہتے ہيں كہ: كسى ايسى چيز كے ساتھ اللہ كا قرب حاصل كرنے كى كوشش كى جائے جو اس نے ہمارے ليے مشروع نہيں كى، اسى ليے حذيفہ رضى اللہ تعالى عنہ كہا كرتے تھے: 
" ہر وہ عبادت جو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے صحابہ كرنے نے نہيں كى تم بھى اسے مت كرو " 
يعنى: جو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے دور ميں دين نہيں تھا، اور نہ ہى اس كے ساتھ اللہ كا قرب حاصل كيا جاتا تھا تو اس كے بعد بھى وہ دين نہيں بن سكتا " 
پھر سائل نے جو مثال بيان كى ہے وہ جرح و تعديل كے علم كى ہے، اس نے كہا ہے كہ يہ بدعت غير مذموم ہے، جو لوگ بدعت كى اقسام كرتے ہوئے بدعت حسنہ اور بدعت سئيہ كہتے ہيں ان كا يہى قول ہے كہ يہ بدعت حسنہ ہے، بلكہ تقسيم كرنے والے تو اس سے بھى زيادہ آگے بڑھ كر اسے پانچ قسموں ميں تقسيم كرتے ہوئے احكام تكليفيہ كى پانچ قسميں كرتے ہيں: 
وجوب، مستحب، مباح، حرام اور مكروہ عزبن عبد السلام رحمہ اللہ يہ تقسيم ذكر كيا ہے اور ان كے شاگرد القرافى نے بھى ان كى متابعت كى ہے. 
اور شاطبى رحمہ اللہ قرافى كا اس تقسيم پر راضى ہونے كا رد كرتے ہوئے كہتے ہيں: 
" يہ تقسيم اپنى جانب سے اختراع اور ايجاد ہے جس كى كوئى شرعى دليل نہيں، بلكہ يہ اس كا نفس متدافع ہے؛ كيونكہ بدعت كى حقيقت يہى ہے كہ اس كى كوئى شرعى دليل نہ ہو نہ تو نصوص ميں اور نہ ہى قواعد ميں، كيونكہ اگر كوئى ايسى شرعى دليل ہوتى جو وجوب يا مندوب يا مباح وغيرہ پر دلالت كرتى تو پھرى كوئى بدعت ہوتى ہى نہ، اور عمل سارے ان عمومى اعمال ميں شامل ہوتے جن كا حكم ديا گيا ہے يا پھر جن كا اختيار ديا گيا ہے، چنانچہ ان اشياء كو بدعت شمار كرنے اور يہ كہ ان اشياء كے وجوب يا مندوب يا مباح ہونے پر دلائل دلالت كرنے كو جمع كرنا دو منافى اشياء ميں جمع كرنا ہے اور يہ نہيں ہو سكتا. 
رہا مكروہ اور حرام كا مسئلہ تو ان كا ايك وجہ سے بدعت ہونا مسلم ہے، اور دوسرى وجہ سے نہيں، كيونكہ جب كسى چيز كے منع يا كراہت پر كوئى دليل دلالت كرتى ہو تو پھر اس كا بدعت ہونا ثابت نہيں ہوتا، كيونكہ ممكن ہے وہ چيز معصيت و نافرمانى ہو مثلا قتل اور چورى اور شراب نوشى وغيرہ، چنانچہ اس تقسيم ميں كبھى بھى بدعت كا تصور نہيں كيا جا سكتا، الا يہ كہ كراہت اور تحريم جس طرح اس كے باب ميں بيان ہوا ہے. 
اور قرافى نے اصحاب سے بدعت كے انكار پر اصحاب سے جو اتفاق ذكر كيا ہے وہ صحيح ہے، اور اس نے جو تقسيم كى ہے وہ صحيح نہيں، اور اس كا اختلاف سے متصادم ہونے اور اجماع كو ختم كرنے والى چيز كى معرفت كے باوجود اتفاق ذكر كرنا بہت تعجب والى چيز ہے، لگتا ہے كہ اس نے اس تقسيم ميں اپنے بغير غور و فكر كيے اپنے استاد ابن عبد السلام كى تقليد و اتباع كى ہے. 
پھر انہوں نے اس تقسيم ميں ابن عبد السلام رحمہ اللہ كا عذر بيان كيا ہے اور اسے " المصالح المرسلۃ " كا نام ديا ہے كہ يہ بدعت ہے، پھر كہتے ہيں: 
" ليكن اس تقسيم كو نقل كرنے ميں قرافى كا كوئى عذر نہيں كيونكہ انہوں نے اپنے استاد كى مراد كے علاوہ اس تقسيم كو ذكر كيا ہے، اور نہ ہى لوگوں كى مراد پر بيان كيا ہے، كيونكہ انہوں نے اس تقسيم ميں سب كى مخالفت كى ہے، تو اس طرح يہ اجماع كے مخالف ہوا " انتہى 
ديكھيں: الاعتصام ( 152 - 153 ).
ہم نصيحت كرتے ہيں كہ آپ كتاب سے اس موضوع كا مطالعہ ضرور كريں كيونكہ رد كے اعتبار سے يہ بہت ہى بہتر اور اچھا ہے اس ميں انہوں نے فائدہ مند بحث كى ہے. 
عز عبد السلام رحمہ اللہ نے بدعت واجبہ كى تقسيم كى مثال بيان كرتے ہوئے كہا ہے: 
" بدعت واجبہ كى كئى ايك مثاليں ہيں:
پہلى مثال: 
علم نحو جس سے كلام اللہ اور رسول اللہ كى كلام كا فہم آئے ميں مشغول ہونا اور سيكھنا يہ واجب ہے؛ كيونكہ شريعت كى حفاظت واجب ہے، اور اس كى حفاظت اس علم كو جانے بغير نہيں ہو سكتى، اور جو واجب جس كے بغير پورا نہ ہو وہ چيز بھى واجب ہوتى ہے. 
دوسرى مثال: 
كتاب اللہ اور سنت رسول صلى اللہ عليہ وسلم ميں سے غريب الفاظ اور لغت كى حفاظت كرنا. 
تيسرى مثال: 
اصول فقہ كى تدوين. 
چوتھى مثال: 
جرح و تعديل ميں كلام كرنا تا كہ صحيح اور غلط ميں تميز ہو سكے، اور شرعى قواعد اس پر دلالت كرتے ہيں كہ شريعت كى حفاظت قدر متعين سے زيادہ كى حفاظت فرض كفايہ ہے، اور شريعت كى حفاظت اسى كے ساتھ ہو سكتى ہے جس كا ہم نے ذكر كيا ہے " انتہى. 
ديكھيں: قواعد الاحكام فى مصالح الانام ( 2 / 173 ). 
اور شاطبى رحمہ اللہ بھى اس كا رد كرتے ہوئے كہتے ہيں: 
" اور عز الدين نے جو كچھ كہا ہے: اس پر كلام وہى ہے جو اوپر بيان ہو چكى ہے، اس ميں سے واجب كى مثاليں اسى كے حساب سے ہيں كہ جو واجب جس كے بغير واجب پورا نہ ہوتا ہو تو وہ چيز بھى واجب ہے ـ جيسا اس نے كہا ہے ـ چنانچہ اس ميں يہ شرط نہيں لگائى جائيگى كہ وہ سلف ميں پائى گئى ہو، اور نہ ہى يہ كہ خاص كر اس كا اصل شريعت ميں موجود ہو؛ كيونكہ يہ تو مصالح المرسلہ كے باب ميں شامل ہے نہ كہ بدعت ميں " انتہى. 
ديكھيں: الاعتصام ( 157 - 158 ).
اور اس رد كا حاصل يہ ہوا كہ:
ان علوم كو بدعت شرعيہ مذمومہ كے وصف سے موصوف كرنا صحيح نہيں، كيونكہ دين اور سنت نبويہ كى حفاظت والى عمومى شرعى نصوص اور شرعى قواعد سے ان كى گواہى ملتى ہے اور جن ميں شرعى نصوص اور شرعى علوم ( كتاب و سنت ) كو لوگوں تك صحيح شكل ميں پہچانے كا بيان ہوا ہے اس سے بھى دليل ملتى ہے.
اور يہ بھى كہنا ممكن ہے كہ: ان علوم كو لغوى طور پر بدعت شمار كيا جا سكتا ہے، نا كہ شرعى طور پر بدعت، اور شرعى بدعت سارى مذموم ہى ہيں، ليكن لغوى بدعت ميں سے كچھ تو محمود ہيں اور كچھ مذموم.
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" شرعى عرف ميں بدعت مذ موم ہى ہے، بخلاف لغوى بدعت كے، كيونكہ ہر وہ چيز جو نئى ايجاد كى گئى اور اس كى مثال نہ ہو اسے بدعت كا نام ديا جاتا ہے چاہے وہ محمود ہو يا مذموم " انتہى 
ديكھيں: فتح البارى ( 13 / 253 ).
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كا يہ بھى كہنا ہے: 
" البدع يہ بدعۃ كى جمع ہے، اور بدعت ہر اس چيز كو كہتے ہيں جس كى پہلے مثال نہ ملتى ہو، لہذا لغوى طور پر يہ ہر محمود اور مذموم كو شامل ہو گى، اور اہل شرع كے عرف ميں يہ مذموم كے ساتھ مختص ہو گى، اگرچہ يہ محمود ميں وارد ہے، ليكن يہ لغوى معنى ميں ہو گى " انتہى 
ديكھيں: فتح البارى ( 13 / 340 ).
اور صحيح بخارى كتاب الاعتصام بالكتاب و السنۃ باب نمر 2حديث نمبر ( 7277 ) پر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كى تعليق پر شيخ عبد الرحمن البراك حفظہ اللہ كہتے ہيں: 
" يہ تقسيم لغوى بدعت كے اعتبار سے صحيح ہے، ليكن شرع ميں ہر بدعت گمراہى ہے، جيسا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے: 
" اور سب سے برے امور دين ميں نئے ايجاد كردہ ہيں، اور ہر بدعت گمراہى ہے " 
اور اس عموم كے باوجود يہ كہا جائز نہيں كہ كچھ بدعات واجب ہوتى ہيں يا مستحب يا مباح، بلكہ دين ميں يا تو بدعت حرام ہے يا پھر مكروہ، اور مكروہ ميں يہ بھى شامل ہے جس كے متعلق انہوں نے اسے بدعت مباح كہا ہے: يعنى عصر اور صبح كے بعد مصافحہ كرنے كے ليے مخصوص كرنا " انتہى
اور يہ معلوم ہونا ضرورى ہے كہ: نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اور صحابہ كرام كے دور ميں كسى بھى چيز كے كيے جانے كے اسباب كے پائے جانے اور موانع كے نہ ہونے كو مدنظر ركھنا چاہيے چنانچہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا ميلاد اور صحابہ كرام كى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے محبت يہ دو ايسے سبب ہيں جو صحابہ كرام كے دور ميں پائے جاتے تھے جس كى بنا پر صحابہ كرام آپ كا جشن ميلاد منا سكتے تھے، اور پھر اس ميں كوئى ايسا مانع بھى نہيں جو انہيں ايسا كرنے سے روكتا. 
لہذا جب نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كے صحابہ كرام نے جشن ميلاد نہيں منايا تو يہ علم ہوا كہ يہ چيز مشروع نہيں، كيونكہ اگر يہ مشروع ہوتى تو صحابہ كرام اس كى طرف سب لوگوں سے آگے ہوتے اور سبقت لے جاتے. 
شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں: 
" اور اسى طرح بعض لوگوں نے جو بدعات ايجاد كر ركھى ہيں وہ يا تو عيسى عليہ السلام كى ميلاد كى طرح عيسائيوں كے مقابلہ ميں ہيں، يا پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى محبتا ور تعظيم ميں ـ اللہ سبحانہ و تعالى اس محبت اور كوشش كا تو انہيں اجروثواب دے گا نہ كہ اس بدعت پر ـ كہ انہوں نے ميلاد النبى كا جشن منانا شروع كر ديا ـ حالانكہ آپ كى تاريخ پيدائش ميں تو اختلاف پايا جاتا ہے ـ اور پھر كسى بھى سلف نے يہ ميلاد نہيں منايا، حالانكہ اس كا مقتضى موجود تھا، اور پھر اس ميں مانع بھى كوئى نہ تھا. 
اور اگر يہ يقينى خير و بھلائى ہوتى يا راجح ہوتى تو سلف رحمہ اللہ ہم سے زيادہ اس كے حقدار تھے؛ كيونكہ وہ ہم سے بھى زيادہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ محبت كرتےتھے، اور آپ كى تعظيم ہم سے بہت زيادہ كرتے تھے، اور پھر وہ خير و بھلائى پر بھى بہت زيادہ حريص تھے.
بلكہ كمال محبت اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى تعظيم تو اسى ميں ہے كہ آپ صلى اللہ عليہ وسلم كى اتباع و پيروى كى جائے، اور آپ كا حكم تسليم كيا جائے، اور ظاہرى اور باطنى طور پر بھى آپ كى سنت كا احياء كيا جائے، اور جس كے ليے آپ صلى اللہ عليہ وسلم مبعوث ہوئے اس كو نشر اور عام كيا جائے، اور اس پر قلبى لسانى اور ہاتھ كے ساتھ جھاد ہو. 
كيونكہ مہاجر و انصار جو سابقين و اولين ميں سے ہيں كا بھى يہى طريقہ رہا ہے اور ان كے بعد ان كى پيروى كرنے والے تابعين عظام كا بھى " انتہى 
ديكھيں: اقتضاء الصراط ( 294 - 295 ). 
اور يہى كلام صحيح ہے جو يہ بيان كرتى ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى محبت تو آپ كى سنت پر عمل كرنے سے ہوتى ہے، اور سنت كو سيكھنے اور اسے نشر كرنے اور اس كا دفاع كرنے ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى محبت ہے اور صحابہ كرام كا طريقہ بھى يہى رہا ہے. 
ليكن ان بعد ميں آنے والوں نے تو اپنے آپ كو دھوكہ ديا ہوا ہے، اور اس طرح كے جشن منانے كے ساتھ شيطان انہيں دھوكہ دے رہا ہے، ان كا خيال ہے كہ وہ اس طرح نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ اپنى محبت كا اظہار كر رہے ہيں، ليكن اس كے مقابلہ ميں وہ سنت كے احياء اور اس پر عمل پيرا ہونے اور سنت نبويہ كو نشر كرنے اور پھيلانے اور سنت كا دفاع كرنے سے بہت ہى دور ہيں. 
سوم: 
اور اس بحث كرنے والے نے جو كلام ابن كثير رحمہ اللہ كى طرف منسوب كى ہے كہ انہوں نے جشن ميلاد منانا جائز قرار ديا ہے، اس ميں صرف ہم اتنا ہى كہيں گے كہ يہ شخص ہميں يہ بتائے كہ ابن كثير رحمہ اللہ نے يہ بات كہاں كہى ہے، كيونكہ ہميں تو ابن كثير رحمہ اللہ كى يہ كلام كہيں نہيں ملى، اور ہم ابن كثير رحمہ اللہ كو اس كلام سے برى سمجھتے ہيں كہ وہ اس طرح كى بدعت كى معاونت كريں اور اس كى ترويج كا باعث بنيں ہوں. 
واللہ اعلم . 

ہفتہ، 21 اکتوبر، 2017

سیرت النبی صلی اللہ علی وسلم

سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کاانسائیکلوپیڈیا

ام عبد منیب

صفحات 675

https://archive.org/download/MohaddisBooksSeptember2017Part3/Seerat-Al-Nabi-Ka-Encyclopedia.PDF
دعوت الی اللہ میں   ٹیلی گرام۔  کا داخلہ
~~~~
https://t.me/dawateallaha360

جمعرات، 19 اکتوبر، 2017

خوارج کی حقیقت

.
دعوت الی اللہ  کی ویب رابطہ Www.dawa360.blogspot.com

خوارج سے متعلق کتب:

~~~~~~~~~~~

۱.
خوارج کی حقیقت

فیصل بن قزار الجاسم

https://archive.org/download/KhawarijKiHaqeeqat/Khawarij-Ki-Haqeeqat.PDF

~~~~~~~~~~~

۲.
فکر خوارج خطرناک فتنوں کی حقیقت

ڈاکٹر علی محمد الصلابی

https://archive.org/download/FikreKhawarajKhatrnakFitnonKiHaqeeqat/Fikre-Khawaraj-Khatrnak-Fitnon-Ki-Haqeeqat.pdf

~~~~~~~~~~~

۳.
خارجیت جدیدہ کا عظیم فتنہ

عبد المعید مدنی

https://archive.org/download/KhaarjiyyatJadeedahKaAzeemFitna/Khaarjiyyat-Jadeedah-Ka-Azeem-Fitna.pdf

~~~~~~~~~~~

۴.
خارجی فرقے کی پہچان

ابو انشاء قاری خلیل الرحمن جاوید

http://www.archive.org/download/Kharji-Firqe-Ki-Pehchan/Kharji-Firqe-Ki-Pehchan.pdf


~~~~~~~~~~~
https://t.me/dawateallaha360

شئیر

.

بدھ، 4 اکتوبر، 2017

اسلامک سوال و جواب : انسان کی آخرت کب شروع ہوتی ہے

اسلامک سوال و جواب : انسان کی آخرت کب شروع ہوتی ہے: انسان کی آخرت کب شروع ہوتی ہے دنیا کی یہ زندگی انسان کی امتحان گاہ ہے، اس دنیاوی زندگی کاخاتمہ ہوتے ہی اس کی آخرت یعنی جزا وسزا کا سلسلہ...

🌐محاضراتِ جلال الدین قاسمی

🌐محاضراتِ جلال الدین قاسمی 1- کیا سلفی (اہل حدیث) دہشت گرد ہیں؟ https://youtu.be/n6MXkZqzAc0 2- سلفیت کا تعارف https://youtu.be/W99...